حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
آخرت پر ایمان
यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।
فتویٰ نمبر: 8 — آخرت پر ایمان
استفتاء:
کیا قیامت اور آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، قیامت اور آخرت پر ایمان لانا ضروریاتِ ایمان میں سے ہے۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے، قیامت قائم ہونے، حساب و کتاب، میزان، پل صراط، جنت اور جہنم پر ایمان رکھے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ
ترجمہ: ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
(سورۃ البقرۃ: 4)
لہٰذا آخرت کا انکار کرنا اسلامی عقیدے کے خلاف ہے، جبکہ آخرت پر یقین انسان کو نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف راغب کرتا ہے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ: 4؛ شرح العقائد النسفیہ؛ العقیدۃ الطحاویہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
संबंधित
इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔