امام کے پیچھے آمین اور مقتدی کی قراءت

यह प्रविष्टि Urdu में लिखी गई है। जहाँ उपलब्ध हो, अनूदित सारांश दिखाया गया है।

فتویٰ نمبر: 486

موضوع: امام کے پیچھے آمین اور مقتدی کی قراءت — کیا دونوں جمع ہوسکتے ہیں؟

استفتاء

اگر امام سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہے تو کیا مقتدی بھی آمین کہے؟ اور کیا امام کی قراءت کے دوران مقتدی کو خاموش رہنا چاہیے یا سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے؟

الجواب وبالله توفيق

مقتدی کے لیے امام کی اقتدا کرنا لازم ہے۔ جب امام جہری نماز میں قراءت کرے تو مقتدی خاموشی سے امام کی قراءت سنے گا اور خود قراءت نہیں کرے گا۔ سورۂ فاتحہ مکمل ہونے پر آمین آہستہ کہے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا

“اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔”

(الأعراف: 204)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا

“اور جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا

“جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔”

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

لہٰذا امام کی قراءت کے وقت مقتدی خاموش رہے اور امام کے آمین کہنے پر آمین کہے۔

سورۂ فاتحہ پڑھنے کی حدیث کا کیا حکم ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

“جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔”

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

احناف اس حدیث کو امام اور منفرد کے لیے محمول کرتے ہیں، جبکہ مقتدی کے بارے میں امام کی قراءت سننے اور خاموش رہنے والی احادیث کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ یوں دونوں طرح کی احادیث کو جمع کیا جاتا ہے۔

حنفی موقف

لہٰذا حنفی طریقے کے مطابق:

امام: سورۂ فاتحہ پڑھے اور آمین آہستہ کہے۔

مقتدی: امام کی قراءت خاموشی سے سنے، خود فاتحہ نہ پڑھے، اور آمین آہستہ کہے۔

یہ ایک قدیم اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے اس بنیاد پر دوسرے معتبر قول پر عمل کرنے والے مسلمان کی نماز کو باطل یا اسے فاسق کہنا درست نہیں۔

مراجع

القرآن الکریم، سورۃ الأعراف: 204

صحیح البخاری، کتاب الأذان

صحیح مسلم، کتاب الصلاة

الہدایہ، کتاب الصلاة

بدائع الصنائع، کتاب الصلاة

المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاة

رد المحتار، کتاب الصلاة

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

PDF में डाउनलोड करें साझा करें

संबंधित

इसी विषय की अन्य प्रविष्टियाँ।

सभी देखें
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 सितंबर 2026 MAM0052 पढ़ें
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 सितंबर 2026 MAM0051 पढ़ें
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 सितंबर 2026 MAM0050 पढ़ें
सवाल