حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
تیمم
هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.
فتویٰ نمبر: 21 — تیمم
استفتاء:
تیمم کب اور کیسے کیا جاتا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جب پانی موجود نہ ہو، یا پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے یا نقصان کا غالب اندیشہ ہو، تو وضو یا غسل کے قائم مقام تیمم کیا جاسکتا ہے۔
تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پاک مٹی یا جنسِ زمین کی کسی چیز پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے کا مسح کیا جائے، پھر دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ
ترجمہ: ’’تو پاک زمین سے تیمم کرو، پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔‘‘
(سورۃ المائدۃ: 6)
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ: 6؛ الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
ذات صلة
مواد أخرى في الموضوع نفسه.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔