حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
فتویٰ نمبر: 9 — صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
استفتاء:
کیا تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب و احترام ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت، ان کا ادب و احترام کرنا اہلِ سنت والجماعت کے عقائد میں سے ہے۔ صحابہ کرام وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان ہی پر وفات پائی۔
اللہ تعالیٰ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
ترجمہ: ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔‘‘
(سورۃ التوبۃ: 100)
لہٰذا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی، ان کی توہین یا ان سے بغض رکھنا انتہائی سنگین گناہ ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ادب و محبت کا عقیدہ رکھے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ التوبۃ: 100؛ صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابہ؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔