حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
— انبیائے کرام علیہم السلام
فتویٰ نمبر: 4 — انبیائے کرام علیہم السلام
استفتاء:
کیا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو ماننا ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ کا سچا نبی ماننا ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ کسی ایک نبی کا بھی انکار کرنا ایمان کے منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ
ترجمہ: ’’ہم اس کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔‘‘
(سورۃ البقرۃ: 285)
لہٰذا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت کو سچا ماننا ضروری ہے، اور کسی نبی کی شان میں گستاخی یا انکار انتہائی سنگین معاملہ ہے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ: 285؛ شرح العقائد النسفیہ؛ العقیدۃ الطحاویہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔