حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
نماز کے مکروہات
فتویٰ نمبر: 26 — نماز کے مکروہات
استفتاء:
نماز میں کون سے کام مکروہ ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
نماز میں ایسے کام جن سے نماز کے خشوع و خضوع یا نماز کی ہیئتِ مسنونہ متاثر ہو، ان سے بچنا چاہیے۔ چند اہم مکروہات یہ ہیں:
بلا ضرورت کپڑوں یا بدن سے کھیلنا۔
بار بار اِدھر اُدھر دیکھنا۔
آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔
انگلیوں کا چٹخانا۔
کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔
بلا ضرورت جمائی لینا اور اسے نہ روکنا۔
نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنا۔
ایسی حالت میں نماز پڑھنا کہ پیشاب یا پاخانے کی شدید حاجت ہو۔
سجدے میں بازو زمین پر بچھا دینا۔
بلا ضرورت کسی شخص کے سامنے سے گزرنا یا نمازی کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی توجہ منتشر ہو۔
نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا چاہیے اور ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو نماز کے ادب کے خلاف ہو۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
متعلقہ
اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔