نماز کے مکروہات

فتویٰ نمبر: 26 — نماز کے مکروہات

استفتاء:

نماز میں کون سے کام مکروہ ہیں؟

الجواب وبالله التوفيق:

نماز میں ایسے کام جن سے نماز کے خشوع و خضوع یا نماز کی ہیئتِ مسنونہ متاثر ہو، ان سے بچنا چاہیے۔ چند اہم مکروہات یہ ہیں:

بلا ضرورت کپڑوں یا بدن سے کھیلنا۔

بار بار اِدھر اُدھر دیکھنا۔

آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔

انگلیوں کا چٹخانا۔

کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔

بلا ضرورت جمائی لینا اور اسے نہ روکنا۔

نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنا۔

ایسی حالت میں نماز پڑھنا کہ پیشاب یا پاخانے کی شدید حاجت ہو۔

سجدے میں بازو زمین پر بچھا دینا۔

بلا ضرورت کسی شخص کے سامنے سے گزرنا یا نمازی کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی توجہ منتشر ہو۔

نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا چاہیے اور ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو نماز کے ادب کے خلاف ہو۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

PDF میں ڈاؤن لوڈ کریں شیئر

متعلقہ

اسی موضوع کی دیگر تحریریں۔

سب دیکھیے
01
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت

قرآنِ کریم کی آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

29 اگست، 2026 MAM025 پڑھیے
02
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

29 اگست، 2026 پڑھیے
03
قضا نماز
قضا نماز

اگر کسی شخص کی فرض نماز نیند یا بھول کی وجہ سے رہ جائے تو یاد آتے ہی اسے ادا کرنا چاہیے۔

29 اگست، 2026 پڑھیے
سوال