حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
میلادِ مصطفیٰ ﷺ
هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.
فتویٰ نمبر: 15 — میلادِ مصطفیٰ ﷺ
استفتاء:
کیا محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منعقد کرنا جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و فضائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا جائز و باعثِ اجر ہے، بشرطیکہ محفل میں کوئی خلافِ شرع کام شامل نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا
ترجمہ: ’’فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔‘‘
(سورۃ یونس: 58)
اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
(سورۃ الأنبیاء: 107)
لہٰذا محفلِ میلاد میں قرآنِ کریم کی تلاوت، نعتِ رسول ﷺ، درود و سلام، ذکرِ ولادت و سیرت اور صدقہ و خیرات جیسے جائز امور کیے جائیں تو یہ شرعاً درست ہے۔ البتہ اس میں اسراف، اختلاطِ مرد و زن، موسیقی یا دیگر ناجائز امور شامل کرنا جائز نہیں۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ یونس: 58؛ سورۃ الأنبیاء: 107؛ فتاویٰ رضویہ؛ بہارِ شریعت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
ذات صلة
مواد أخرى في الموضوع نفسه.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔