حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
ختمِ نبوت
هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.
فتویٰ نمبر: 2 — ختمِ نبوت
استفتاء:
کیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کا نبی بننا یا کسی کو نبی ماننا قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ
ترجمہ: ’’لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے خاتم (آخری) ہیں۔‘‘
(سورۃ الاحزاب: 40)
لہٰذا جو شخص حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا عقیدہ رکھے، وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا منکر ہے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ الاحزاب: 40؛ صحیح البخاری، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
ذات صلة
مواد أخرى في الموضوع نفسه.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔