یہ مسئلہ اہلِ علم کے درمیان قدیم اجتہادی و اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں بعض علماء نے بعض صورتوں کو جائز قرار دیا، جبکہ بعض نے بعض صورتوں سے منع کیا۔ اس لیے اس مسئلے کو سمجھتے وقت الفاظ، نیت اور دعا کے حقیقی مخاطَب میں فرق کرنا ضروری ہے۔
فاتحہ کے لیے تیجہ، دسواں یا چالیسواں مقرر کرنا
هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.
فتویٰ نمبر: 482
موضوع: فاتحہ کے لیے تیجہ، دسواں یا چالیسواں مقرر کرنا
استفتاء
کیا میت کے ایصالِ ثواب کے لیے تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن مجلسِ فاتحہ کرنا شرعاً ضروری یا سنت ہے؟ اگر کوئی شخص ان دنوں میں قرآن خوانی اور دعا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب وبالله التوفيق
میت کے لیے دعا، استغفار، صدقہ اور ایصالِ ثواب جائز اور باعثِ خیر ہے، لیکن شریعت نے ایصالِ ثواب کے لیے تیسرا، دسواں یا چالیسواں دن مقرر نہیں فرمایا۔
لہٰذا کسی خاص دن کو اس اعتقاد کے ساتھ لازم، واجب یا سنتِ مقررہ سمجھنا کہ شریعت نے اسی دن یہ عمل مقرر کیا ہے، درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص صرف سہولت اور اجتماع کے لیے کسی دن لوگوں کو جمع کرے، قرآنِ کریم کی تلاوت ہو، ذکر و درود ہو، میت کے لیے دعا کی جائے اور اسے شرعی طور پر لازم نہ سمجھا جائے، تو محض دن مقرر ہونے کی وجہ سے اصلِ ایصالِ ثواب ناجائز نہیں ہوجاتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ
“اور جو لوگ ان کے بعد آئے، وہ دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔”
(سورۃ الحشر: 10)
یہ آیت اہلِ ایمان کے لیے پہلے گزرنے والے مسلمانوں کے حق میں دعا اور استغفار کی مشروعیت پر واضح دلیل ہے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو اپنی والدہ کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی۔
(صحیح البخاری، کتاب الوصایا)
اس سے معلوم ہوا کہ زندہ شخص کا نیک عمل میت کے لیے نفع بخش ہوسکتا ہے۔
مخصوص دن مقرر کرنے کی دلیل
عبادات کے لیے کسی خاص وقت یا طریقے کو دین کا مقرر کردہ حصہ قرار دینے کے لیے شرعی دلیل ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
“جس نے ہمارے اس دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔”
(صحیح البخاری، کتاب الصلح؛ صحیح مسلم، کتاب الأقضیۃ)
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نیا انتظام یا ہر نیا طریقہ ناجائز ہے، بلکہ وہ نئی چیز جو دین میں بلا دلیل عبادت یا لازم شرعی کے طور پر داخل کی جائے، وہ قابلِ قبول نہیں۔
چنانچہ قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب اپنی اصل کے اعتبار سے نیک عمل ہیں، لیکن تیجہ، دسواں یا چالیسواں کو شرعی طور پر مقرر سنت سمجھنے کے لیے الگ دلیل درکار ہوگی، اور ایسی تعیین نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔
فقہائے احناف کی تصریحات
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے ایصالِ ثواب کے جواز کو بیان کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایسی تخصیص جسے لوگ شرعی طور پر لازم سمجھنے لگیں، اس پر نکیر کی جائے گی۔
(رد المحتار، کتاب الصلاۃ، مبحث القراءة عند القبور)
اسی اصول کی بنا پر اصل ایصالِ ثواب اور کسی خاص دن کو شرعی طور پر لازم سمجھنا دو الگ مسائل ہیں۔
لہٰذا کسی مرحوم کے لیے تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن قرآن پڑھ کر دعا کردی جائے تو صرف دن کی وجہ سے اسے حرام قرار دینا درست نہیں؛ لیکن اسے سنتِ ثابتہ، واجب یا ضروری شرعی رسم سمجھنا بھی درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
ذات صلة
مواد أخرى في الموضوع نفسه.
یہ مسئلہ قدیم اختلافی مسائل میں سے ہے۔ اس میں اہلِ علم نے قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں مختلف تفصیلات بیان کی ہیں۔ درست بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے سماع کی اصل کو بالکل مطلقاً رد نہیں کیا جاسکتا؛ البتہ یہ بھی درست نہیں کہ مردے ہر وقت، ہر جگہ اور ہر شخص کی ہر بات اسی طرح سنتے ہیں جیسے زندہ انسان سنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے