حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
تقدیر پر ایمان
هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.
فتویٰ نمبر: 7 — تقدیر پر ایمان
استفتاء:
کیا تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، تقدیر پر ایمان لانا ضروریاتِ ایمان میں سے ہے۔ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے ازلی علم کے مطابق جانتا ہے اور اس کی مشیت و تقدیر سے ہوتا ہے۔ تاہم انسان کو اللہ تعالیٰ نے ارادہ و اختیار بھی عطا فرمایا ہے، اسی لیے اسے اپنے اختیاری اعمال پر ثواب یا عذاب ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان لایا جائے۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان)
لہٰذا تقدیر کا انکار درست نہیں، اور مصیبت کے وقت تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے صبر کرنا چاہیے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ القمر: 49؛ سورۃ الحدید: 22؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری
ذات صلة
مواد أخرى في الموضوع نفسه.
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔