امام کے پیچھے مقتدی کی قراءت

هذه المادة مكتوبة بـUrdu. ويُعرض ملخص مترجم حيثما توفّر.

فتویٰ نمبر: 483

موضوع: امام کے پیچھے مقتدی کی قراءت

استفتاء

جب امام بلند یا آہستہ آواز سے قرآن پڑھ رہا ہو تو مقتدی کو بھی سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے یا خاموش رہ کر امام کی قراءت سننی چاہیے؟

الجواب وبالله التوفيق

اس مسئلے میں ائمۂ مجتہدین کے درمیان معروف اختلاف ہے۔ احناف کے نزدیک مقتدی امام کے پیچھے قرآن کی قراءت نہیں کرے گا، خواہ امام جہری قراءت کر رہا ہو یا سری۔ مقتدی پر امام کی اقتدا اور اس کی قراءت سننا لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

“اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”

(الأعراف: 204)

اگرچہ آیت کا عمومی سیاق قرآن سننے سے متعلق ہے، لیکن نماز میں امام کی قراءت کے وقت اس سے استماع و انصات کا حکم بھی مستنبط کیا گیا ہے۔

حدیثِ رسول ﷺ سے دلیل

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا

“اور جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

یہ حدیث مقتدی کے لیے امام کی قراءت کے وقت خاموش رہنے کی واضح دلیل ہے۔

ایک روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ

“جس کا امام ہو، امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے۔”

(سنن ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلاة)

اس روایت کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، اس لیے اصل استدلال صحیح مسلم کی روایت «وإذا قرأ فأنصتوا» اور دیگر آثار سے کیا جاتا ہے۔

سورۂ فاتحہ پڑھنے والی احادیث کا کیا جواب ہے؟

صحیح احادیث میں نماز میں سورۂ فاتحہ کی فضیلت بھی وارد ہوئی ہے، مثلاً نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

“جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔”

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

یہ حدیث اپنی جگہ صحیح ہے، لیکن احناف کے نزدیک اس کا تعلق منفرد اور امام سے ہے، جبکہ مقتدی کے لیے امام کی قراءت کے وقت خاموش رہنے کی احادیث موجود ہیں۔ یوں دونوں قسم کی روایات میں تطبیق دی جاتی ہے، نہ کہ ایک کو بلا وجہ رد کیا جاتا ہے۔

آثارِ صحابہ

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ

“امام کے ساتھ کسی چیز میں قراءت نہیں۔”

(موطأ امام مالک، کتاب الصلاة)

اسی طرح متعدد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے آثار منقول ہیں۔

حنفی فقہاء کی تصریح

امام محمد رحمہ اللہ نے المبسوط میں امام کے پیچھے مقتدی کی قراءت کے مسئلے کو بیان کیا ہے، اور حنفی مذہب میں مقتدی کے لیے امام کی قراءت کے وقت خاموش رہنے کا موقف واضح ہے۔

امام کاسانی رحمہ اللہ بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں کہ مقتدی کے لیے امام کی قراءت کے ہوتے ہوئے اپنی قراءت میں مشغول ہونا مناسب نہیں، کیونکہ مقتدی کا کام امام کی پیروی کرنا ہے۔

(بدائع الصنائع، کتاب الصلاة، فصل القراءة)

اور الہدایہ میں بھی امام کے پیچھے مقتدی کی قراءت نہ کرنے کا یہی حکم مذکور ہے۔

ایک ضروری وضاحت

یہ مسئلہ اختلافی اور اجتہادی ہے۔ اس لیے جو شخص کسی معتبر اجتہادی قول پر عمل کرتے ہوئے امام کے پیچھے فاتحہ پڑھتا ہے، اس کی تحقیر یا اس کی نماز کو بلا دلیل باطل قرار دینا درست نہیں۔

حنفی شخص کے لیے مسنون و معمول طریقہ یہ ہے کہ وہ امام کی اقتدا کرے اور امام کی قراءت کے وقت خاموش رہے۔

مراجع:

القرآن الکریم، سورۃ الأعراف: 204

صحیح مسلم، کتاب الصلاة

صحیح البخاری، کتاب الأذان

موطأ امام مالک، کتاب الصلاة

الہدایہ، کتاب الصلاة

بدائع الصنائع، کتاب الصلاة

المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاة

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری

نزِّلها PDF مشاركة

ذات صلة

مواد أخرى في الموضوع نفسه.

عرض الكل
01
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق ur

حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔

3 سبتمبر 2026 MAM0052 اقرأ
02
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟ ur

اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔

2 سبتمبر 2026 MAM0051 اقرأ
03
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ ur

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

2 سبتمبر 2026 MAM0050 اقرأ
سؤال