مفتی سید محمد عالم مداری
حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)
مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت
روحانی علاج
- اشاعت
- 27 جولائی، 2026
- موضوع
- دعا و اذکار
- اصل زبان
- اردو
قرآن و سنت سے روحانی علاج
قرآن کی تلاوت اور نبی ﷺ کی دعاؤں سے علاج ثابت اور پسندیدہ ہے۔ ممنوع وہ چیزیں ہیں جو اُس کے ساتھ ملا دی جاتی ہیں: گنتیاں، غیر اللہ کے نام، اور غیب کے دعوے پر اجرت۔
رقیہ کیا ہے
رقیہ یہ ہے کہ بیمار یا مبتلا شخص پر پڑھ کر اللہ سے شفا مانگی جائے۔ نبی ﷺ نے خود کیا، اجازت دی، اور آپ ﷺ پر کیا بھی گیا۔ علماء نے تین شرطیں بیان کی ہیں: الفاظ اللہ کے کلام، اُس کے ناموں یا مسنون دعاؤں کے ہوں؛ زبان ایسی ہو جس کا معنیٰ معلوم ہو؛ اور پڑھنے والا یہ عقیدہ رکھے کہ شفا صرف اللہ سے ہے، الفاظ سے نہیں۔
معمول کی تلاوت
- سورۃ الفاتحہ۔
- آیۃ الکرسی (البقرہ 2:255)۔
- سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں۔
- سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس — تین تین بار، ہتھیلیوں پر دم کر کے پورے بدن پر پھیر لیں۔
مسنون دعا
اے اللہ! لوگوں کے رب! تکلیف دور فرما، شفا دے — تُو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں — ایسی شفا جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔
جو جائز نہیں
- ایسے تعویذ جن میں قرآن، اسمائے الٰہی یا مسنون دعاؤں کے علاوہ کچھ ہو۔
- ایسا عمل جس میں بیمار سے کوئی ناجائز کام کرایا جائے، نماز چھڑائی جائے، یا نتیجے کی ضمانت پر فیس لی جائے۔
- غیب کا دعویٰ — کہ جادو کس نے کیا اور کہاں دبا ہے۔ یہ کہانت ہے، اور اس پر حدیث بہت سخت ہے۔
دوا کے ساتھ، دوا کی جگہ نہیں
اللہ کے بندو! علاج کراؤ — اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو۔
رقیہ ڈاکٹر کا بدل نہیں۔ بیمار کا علاج ہونا چاہیے، اور تلاوت اُس علاج کے ساتھ چلتی ہے۔ جو کوئی بیمار سے دوا چھڑائے، وہ اُس کا نقصان کر رہا ہے، خواہ کچھ بھی پڑھتا ہو۔