مفتی سید محمد عالم مداری
حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)
مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت
فتاویٰ
- حوالہ نمبر
- MAM0051
- اشاعت
- 2 ستمبر، 2026
- موضوع
- کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
- اصل زبان
- اردو
کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
فتویٰ نمبر 502
عنوان: کیا انبیائے کرام علیہم السلام قبر میں زندہ ہیں یا نہیں؟
استفتاء:
کیا انبیائے کرام علیہم السلام وفات کے بعد اپنی قبور میں زندہ ہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی دنیا سے وفات پاچکے، اس لیے قبر میں زندہ کہنا درست نہیں، جبکہ احادیث میں انبیاء علیہم السلام کی قبور میں حیات کا ذکر موجود ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی حقیقت کیا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
اس مسئلے میں اصل بات یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی زندگی کے اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر و برزخ میں خصوصی حیات عطا فرمائی ہے۔ اس لیے “وفات” اور “قبر میں حیات” دونوں باتیں اپنی اپنی جہت سے درست ہیں۔
قرآن سے وفات کا ثبوت:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾
“بے شک آپ کو بھی وفات آنی ہے اور انہیں بھی وفات آنی ہے۔”
(الزمر: 30)
اور فرمایا:
﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾
“اور ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشہ کی زندگی نہیں رکھی۔”
(الأنبیاء: 34)
ان آیات سے دنیاوی حیات کے ختم ہونے کا ثبوت ملتا ہے، لیکن یہ آیات موت کے بعد برزخی حیات کی نفی نہیں کرتیں۔
قرآن سے موت کے بعد حیات کا اصول:
اللہ تعالیٰ شہداء کے بارے میں فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَّا تَشْعُرُونَ﴾
“جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں شعور نہیں۔”
(البقرۃ: 154)
اور فرمایا:
﴿بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾
“بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔”
(آل عمران: 169)
اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی موت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی عطا سے ایک حقیقی برزخی حیات ہوسکتی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قبر میں زندہ ہونا:
صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
«مَرَرْتُ عَلَىٰ مُوسَىٰ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ»
“جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں سرخ ٹیلے کے پاس موسیٰ علیہ السلام کے قریب سے گزرا، وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الفضائل)
یہ حدیث نہایت واضح ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وفات کے بعد قبر میں موجود تھے اور نماز ادا فرما رہے تھے۔ اس سے انبیاء علیہم السلام کی خصوصی برزخی حیات ثابت ہوتی ہے۔
انبیاء علیہم السلام کے لیے خصوصی حیات:
ایک روایت میں ہے:
«الْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ»
“انبیاء اپنی قبور میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔”
اس روایت کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قبر میں نماز پڑھنے والی صحیح مسلم کی حدیث اس معنی کی واضح تائید کرتی ہے۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ»
“اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔”
(سنن ابی داود، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ)
حتمی نتیجہ:
انبیائے کرام علیہم السلام دنیاوی اعتبار سے وفات پاچکے ہیں، لیکن قبور میں برزخی اور خصوصی حیات کے ساتھ زندہ ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ “انبیاء وفات پاچکے ہیں” دنیاوی زندگی کے اعتبار سے درست ہے، اور یہ کہنا کہ “انبیاء قبور میں زندہ ہیں” حیاتِ برزخی کے اعتبار سے درست ہے۔
لہٰذا دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ قرآن دنیاوی وفات کو بیان کرتا ہے اور صحیح احادیث انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصی برزخی حیات کو ثابت کرتی ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری