← اندراج پر واپس پرنٹ ونڈو میں ڈیسٹینیشن میں ”Save as PDF“ منتخب کیجیے۔

مفتی سید محمد عالم مداری

حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)

مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت

فتاویٰ

حوالہ نمبر
MAM0050
اشاعت
2 ستمبر، 2026
موضوع
کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟
اصل زبان
اردو

کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟

یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

🌙 فتویٰ نمبر 501


کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب تھا؟ “عالم الغیب” کہنا کیسا ہے؟ دونوں طرف کے دلائل اور ان میں تطبیق


📝 استفتاء:


کیا نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب حاصل تھا؟ بعض حضرات قرآن کی ان آیات سے استدلال کرتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جبکہ بعض حضرات قرآن و حدیث سے ثابت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے غیب کی خبریں عطا فرمائیں۔ دونوں فریق کے دلائل کیا ہیں؟ “نبی ﷺ عالم الغیب ہیں” کہنا کیسا ہے؟ اور ان تمام نصوص میں تطبیق کیسے دی جائے؟


⚖️ الجواب وبالله التوفيق:


یہ مسئلہ الفاظ سے زیادہ معنی اور نسبت کا مسئلہ ہے۔ قرآن و حدیث کی تمام نصوص کو جمع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف کی اصل دلیل اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ان کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔


---


🕋 پہلا موقف: غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے


اس موقف کی سب سے واضح دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:


﴿قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ﴾


“فرما دیجیے: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔”


(النمل: 65)


اسی طرح فرمایا:


﴿وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ﴾


“اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”


(الأنعام: 59)


اور نبی کریم ﷺ سے فرمایا:


﴿قُلْ لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللّٰهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ﴾


“آپ فرما دیجیے: میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں۔”


(الأنعام: 50)


اسی طرح فرمایا:


﴿قُلْ لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ﴾


“فرما دیجیے: میں اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں حاصل کرلیتا۔”


(الأعراف: 188)


📌 اس فریق کی دلیل کا خلاصہ


اس فریق کا کہنا ہے کہ:


غیب کا ذاتی اور مستقل علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس لیے نبی کریم ﷺ کے لیے مطلقاً “عالم الغیب” کہنا مناسب نہیں۔


یہ بات اپنی اصل میں درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی، ازلی اور مستقل ہے۔


---


🌹 دوسرا موقف: نبی کریم ﷺ کو علمِ غیب عطا فرمایا گیا


دوسری طرف قرآنِ کریم خود رسولوں کو غیب کی اطلاع دیے جانے کو بیان کرتا ہے:


﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۝ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَّسُولٍ﴾


“وہ غیب کا جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، مگر اس رسول کو جسے وہ پسند فرمائے۔”


(الجن: 26-27)


یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے منتخب رسول کو غیب میں سے بعض امور کی اطلاع دیتا ہے۔


اسی لیے نبی کریم ﷺ نے مستقبل کے متعدد واقعات اور فتنوں کی خبریں بیان فرمائیں۔


حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت تک پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں انہیں تفصیل سے بتایا۔


(صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعة)


اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:


«تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ»


“عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔”


(صحیح البخاری، صحیح مسلم)


اور صحیح احادیث میں قیامت کی متعدد علامات، آئندہ فتنوں اور مستقبل کے واقعات کی خبریں نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں۔


📌 اس فریق کی دلیل کا خلاصہ


اس فریق کا کہنا ہے کہ:


اگر نبی کریم ﷺ کو غیب کا کوئی علم نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَّسُولٍ﴾ بے معنی ہوجاتا، جبکہ احادیث میں نبی کریم ﷺ کی بے شمار غیبی خبریں موجود ہیں۔


یہ استدلال بھی اپنی اصل میں مضبوط ہے۔


---


🔍 اب دونوں فریق کی دلیل میں تطبیق کیسے ہوگی؟


یہاں اصل حل سامنے آتا ہے:


پہلا فریق “ذاتی اور مستقل علمِ غیب” کی نفی کر رہا ہے۔


اور


دوسرا فریق “اللہ تعالیٰ کی عطا سے حاصل ہونے والے علمِ غیب” کا اثبات کر رہا ہے۔


لہٰذا حقیقت میں دونوں دلائل کو صحیح معنی کے ساتھ جمع کیا جاسکتا ہے۔


ایک طرف:


﴿لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ﴾


یعنی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کوئی مخلوق اپنے طور پر، ذاتی اور مستقل حیثیت سے غیب نہیں جانتی۔


دوسری طرف:


﴿إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَّسُولٍ﴾


یعنی اللہ تعالیٰ اپنے منتخب رسول کو غیب میں سے جس قدر چاہے اطلاع دیتا ہے۔


پس یہاں کوئی حقیقی تعارض نہیں۔


---


♾️ “لامحدود علم” کی بھی یہی تفصیل ہے


اگر نبی کریم ﷺ کے علم کو “لامحدود” کہا جائے تو یہ لفظ وضاحت کے بغیر استعمال کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس سے دو مختلف مفہوم نکل سکتے ہیں۔


اگر مراد یہ ہو:


«اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اتنا وسیع اور بے شمار علم عطا فرمایا کہ ہم اس کی مکمل مقدار اور تمام تفصیلات کا احاطہ نہیں کرسکتے۔»


تو یہ معنی قابلِ قبول ہے۔


لیکن اگر مراد یہ ہو:


«نبی کریم ﷺ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کی طرح ذاتی، ازلی، مستقل اور محیط ہے۔»


تو یہ معنی باطل ہے۔


اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


﴿وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ﴾


“اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے۔”


(البقرۃ: 255)


اسی طرح فرمایا:


﴿وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾


“اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔”


(البقرۃ: 212)


“بے حساب” بندوں کے اعتبار سے مقدار کے عدمِ احاطہ کو بھی ظاہر کرتا ہے؛ اسی طرح نبی کریم ﷺ کے عطا کردہ علوم کو بندوں کے اعتبار سے “بے شمار” کہنا ایک مفہوم رکھتا ہے، مگر اسے اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر قرار دینا درست نہیں۔


---


🕊️ “عالم الغیب” کہنے کا صحیح طریقہ


اب اصل سوال کا جواب یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ کو “عالم الغیب” کہا جاسکتا ہے؟


اس میں تفصیل ہے۔


اگر “عالم الغیب” سے مراد بالذات، مستقل، ازلی اور محیط علم رکھنے والا لیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، نبی کریم ﷺ کے لیے اس معنی میں کہنا درست نہیں۔


اور اگر مراد یہ ہو کہ:


“اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو وسیع علمِ غیب عطا فرمایا ہے، اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی عطا سے غیب کی خبریں جانتے اور بتاتے ہیں”


تو یہ معنی قرآن و حدیث سے ثابت شدہ علمِ عطائی کے مطابق ہے۔


اسی لیے عقیدے کی وضاحت کے لیے زیادہ بہتر تعبیر یہ ہے:


«اللہ تعالیٰ عالم الغیب بالذات ہے، اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے علمِ غیب عطا فرمایا ہے۔»


---


⚠️ شرک کی حد کہاں آتی ہے؟


یہ فرق بہت ضروری ہے:


علم کی کثرت شرک نہیں؛ اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر علم ماننا مسئلہ ہے۔


اگر کوئی کہے:


«“نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار غیبی علوم عطا فرمائے، جن کی مکمل مقدار ہم شمار نہیں کرسکتے۔”»


تو اس میں علمِ عطائی کا اقرار ہے۔


لیکن اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ:


«“نبی کریم ﷺ کا علم اللہ تعالیٰ کی طرح ذاتی، ازلی، مستقل اور محیط ہے، اور کسی عطا کا محتاج نہیں۔”»


تو یہ درست عقیدہ نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی خاص صفت میں مخلوق کو اسی معنی میں شریک کرنا شرک کے مفہوم تک پہنچتا ہے۔


---


🌟 حتمی نتیجہ


دونوں فریق کی بنیادی دلیلوں کو سامنے رکھنے کے بعد صحیح تطبیق یہ ہے:


① غیب کا ذاتی، ازلی، مستقل اور محیط علم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔


② اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غیب کی بہت سی خبریں عطا فرمائی ہیں، اور نبی کریم ﷺ کو بھی بے شمار غیبی علوم عطا فرمائے۔


③ “لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ” کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ذاتی و مستقل علم سے ہے، جبکہ “إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَّسُولٍ” اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کو عطا کردہ غیبی اطلاع کو ثابت کرتی ہے۔


④ نبی کریم ﷺ کے عطا کردہ علم کی مکمل مقدار اور تمام جزئیات کا احاطہ ہم نہیں کرسکتے؛ اس معنی میں اس علم کی وسعت کو “بے شمار” کہنا درست مفہوم رکھتا ہے۔


⑤ لیکن نبی کریم ﷺ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر، ذاتی، ازلی، مستقل یا محیط سمجھنا درست نہیں۔


⑥ “نبی کریم ﷺ عالم الغیب ہیں” اگر بغیر وضاحت کے بولا جائے تو اشتباہ پیدا ہوسکتا ہے؛ اس لیے بہتر تعبیر یہ ہے کہ کہا جائے:


«“نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وسیع علمِ غیب عطا فرمایا ہے، اور آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے غیب کی خبریں جانتے اور بتاتے ہیں۔”»


لہٰذا نہ نبی کریم ﷺ کے عطا کردہ علمِ غیب کا انکار درست ہے، نہ آپ ﷺ کے علم کو اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور محیط علم کے برابر قرار دینا درست ہے۔


حق بات دونوں طرف کی نصوص کو جمع کرنے میں ہے، نہ کہ ایک کو مان کر دوسری کو رد کرنے میں۔


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


مفتی سید محمد عالم مداری