← اندراج پر واپس پرنٹ ونڈو میں ڈیسٹینیشن میں ”Save as PDF“ منتخب کیجیے۔

مفتی سید محمد عالم مداری

حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)

مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت

فتاویٰ

حوالہ نمبر
MAM019
اشاعت
29 اگست، 2026
موضوع
تیمم
اصل زبان
اردو

تیمم

تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پاک مٹی یا جنسِ زمین کی کسی چیز پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے کا مسح کیا جائے، پھر دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا جائے۔

فتویٰ نمبر: 21 — تیمم

استفتاء:

تیمم کب اور کیسے کیا جاتا ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جب پانی موجود نہ ہو، یا پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے یا نقصان کا غالب اندیشہ ہو، تو وضو یا غسل کے قائم مقام تیمم کیا جاسکتا ہے۔

تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ پاک مٹی یا جنسِ زمین کی کسی چیز پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے کا مسح کیا جائے، پھر دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ

ترجمہ: ’’تو پاک زمین سے تیمم کرو، پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو۔‘‘

(سورۃ المائدۃ: 6)

حوالہ:

القرآن الکریم، سورۃ المائدۃ: 6؛ الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری