← اندراج پر واپس پرنٹ ونڈو میں ڈیسٹینیشن میں ”Save as PDF“ منتخب کیجیے۔

مفتی سید محمد عالم مداری

حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)

مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت

فتاویٰ

اشاعت
29 اگست، 2026
موضوع
سجدۂ سہو
اصل زبان
اردو

سجدۂ سہو

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے،

فتویٰ نمبر: 29 — سجدۂ سہو

استفتاء:

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے تو کیا حکم ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

اگر نماز میں کوئی واجب بھول کر رہ جائے یا کسی واجب میں ایسی تاخیر ہوجائے جس سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے، تو نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرنا واجب ہے۔

سجدۂ سہو کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں التحیات پڑھنے کے بعد دائیں طرف ایک سلام پھیر کر دو سجدے کیے جائیں، پھر بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیرا جائے۔

اگر واجب جان بوجھ کر چھوڑا جائے تو گناہ ہوگا اور نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الصلاۃ، باب سجود السهو؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری