← اندراج پر واپس پرنٹ ونڈو میں ڈیسٹینیشن میں ”Save as PDF“ منتخب کیجیے۔

مفتی سید محمد عالم مداری

حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)

مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت

فتاویٰ

حوالہ نمبر
MAM015
اشاعت
29 اگست، 2026
موضوع
میلادِ مصطفیٰ ﷺ
اصل زبان
اردو

میلادِ مصطفیٰ ﷺ

میلاد میں قرآنِ کریم کی تلاوت، نعتِ رسول ﷺ، درود و سلام، ذکرِ ولادت و سیرت اور صدقہ و خیرات جیسے جائز امور کیے جائیں تو یہ شرعاً درست ہے

فتویٰ نمبر: 15 — میلادِ مصطفیٰ ﷺ

استفتاء:

کیا محفلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ منعقد کرنا جائز ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و فضائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا جائز و باعثِ اجر ہے، بشرطیکہ محفل میں کوئی خلافِ شرع کام شامل نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا

ترجمہ: ’’فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔‘‘

(سورۃ یونس: 58)

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

(سورۃ الأنبیاء: 107)

لہٰذا محفلِ میلاد میں قرآنِ کریم کی تلاوت، نعتِ رسول ﷺ، درود و سلام، ذکرِ ولادت و سیرت اور صدقہ و خیرات جیسے جائز امور کیے جائیں تو یہ شرعاً درست ہے۔ البتہ اس میں اسراف، اختلاطِ مرد و زن، موسیقی یا دیگر ناجائز امور شامل کرنا جائز نہیں۔

حوالہ:

القرآن الکریم، سورۃ یونس: 58؛ سورۃ الأنبیاء: 107؛ فتاویٰ رضویہ؛ بہارِ شریعت۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری