← اندراج پر واپس پرنٹ ونڈو میں ڈیسٹینیشن میں ”Save as PDF“ منتخب کیجیے۔

مفتی سید محمد عالم مداری

حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)

مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت

فتاویٰ

حوالہ نمبر
MAM013
اشاعت
29 اگست، 2026
موضوع
شفاعتِ رسول ﷺ
اصل زبان
اردو

شفاعتِ رسول ﷺ

رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے اور شفاعت کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

فتویٰ نمبر: 12 — شفاعتِ رسول ﷺ

استفتاء:

کیا قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ شفاعت فرمائیں گے؟

الجواب وبالله التوفيق:

جی ہاں، رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے اور شفاعت کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو شفاعت کا مقام عطا فرمائے گا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ

ترجمہ: ’’اور وہ شفاعت نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس سے اللہ راضی ہو۔‘‘

(سورۃ الأنبیاء: 28)

احادیثِ مبارکہ میں بھی نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا واضح ذکر موجود ہے۔ قیامت کے دن لوگ آپ ﷺ کی بارگاہ میں شفاعت کے لیے حاضر ہوں گے اور آپ ﷺ کو مقامِ محمود عطا کیا جائے گا۔

لہٰذا اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ شفاعت حق ہے، مگر شفاعت اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اس کی رضا سے ہی ہوگی۔

حوالہ:

القرآن الکریم، سورۃ الأنبیاء: 28؛ سورۃ الإسراء: 79؛ صحیح البخاری، کتاب التفسیر؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری