مفتی سید محمد عالم مداری
حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)
مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت
فتاویٰ
- اشاعت
- 29 اگست، 2026
- موضوع
- غسل کب فرض ہوتا ہے
- اصل زبان
- اردو
غسل کب فرض ہوتا ہے
درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے:
فتویٰ نمبر: 20 — غسل کب فرض ہوتا ہے
استفتاء:
کن صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے:
شہوت کے ساتھ منی خارج ہونا، خواہ بیداری میں ہو یا نیند میں۔
میاں بیوی کے درمیان دخول ہوجانا، خواہ انزال نہ ہوا ہو۔
عورت کا حیض ختم ہونا۔
عورت کا نفاس ختم ہونا۔
احتلام کے بعد منی کا اثر ظاہر ہونا۔
لہٰذا جب کسی شخص پر غسل فرض ہوجائے تو نماز اور دیگر وہ عبادات جن کے لیے طہارت شرط ہے، ان سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الطہارت؛ بدائع الصنائع، کتاب الطہارت؛ رد المحتار، کتاب الطہارت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری