مفتی سید محمد عالم مداری
حافظِ قرآن · قاری · عالم · مفتی · پی ایچ ڈی (علومِ حدیث)
مکن پور شریف، کانپور نگر، اتر پردیش، بھارت
فتاویٰ
- حوالہ نمبر
- MAM014
- اشاعت
- 29 اگست، 2026
- موضوع
- زیارتِ قبور
- اصل زبان
- اردو
زیارتِ قبور
قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ عبرت و آخرت کی یاد کا ذریعہ ہے
- فتویٰ نمبر: 14 — زیارتِ قبور
استفتاء:
کیا قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، قبروں کی زیارت کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ عبرت و آخرت کی یاد کا ذریعہ ہے۔ مردوں کے لیے قبروں کی زیارت مسنون ہے، بشرطیکہ وہاں کوئی خلافِ شرع کام نہ کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا»
ترجمہ: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو۔‘‘
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز)
زیارتِ قبور کے وقت سلام کرنا، میت کے لیے دعا و استغفار کرنا اور موت و آخرت کو یاد کرنا چاہیے۔
لہٰذا قبروں کی زیارت جائز ہے، لیکن وہاں سجدہ کرنا، طواف کرنا یا کوئی ایسا عمل کرنا جو شریعت کے خلاف ہو، جائز نہیں۔
حوالہ:
صحیح مسلم، کتاب الجنائز؛ رد المحتار؛ بہارِ شریعت۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری