मुफ़्ती सैयद मोहम्मद आलम मदारी
हाफ़िज़-ए-क़ुरआन · क़ारी · आलिम · मुफ़्ती · पीएच.डी. (हदीस)
मकनपुर शरीफ़, कानपुर नगर, उत्तर प्रदेश, भारत
फ़तावा
- संदर्भ सं.
- MAM0043
- प्रकाशित
- 2 सितंबर 2026
- विषय
- میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت
- मूल भाषा
- اردو
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے
فتویٰ نمبر: 491
موضوع: میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی شرعی حیثیت
استفتاء
کیا نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکرِ ولادت و سیرت، درود و سلام اور صدقہ و خیرات پر مشتمل مجلس منعقد کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا اسے بدعت یا ناجائز کہنا درست ہے؟
الجواب وبالله التوفيق
نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت کا ظہور ہے۔ آپ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل بیان کرنا، درود و سلام پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور باعثِ خیر ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا»
“فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔”
(القرآن، سورۃ یونس: 58)
اگرچہ آیت میں لفظاً میلاد کا ذکر نہیں، لیکن نبی کریم ﷺ خود اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ»
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔”
(القرآن، سورۃ الأنبیاء: 107)
لہٰذا آپ ﷺ کی تشریف آوری کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر خوشی کا اظہار کرنا قرآن کے عمومی اصول کے تحت آتا ہے۔
ولادتِ نبوی ﷺ کے دن عبادت کرنے کی اصل
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
«ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ»
“یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔”
(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة أيام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء والاثنين والخميس)
یہ حدیث نہایت اہم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پیر کے دن روزہ رکھنے کی ایک وجہ خود اپنی ولادتِ باسعادت بیان فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو ایک عبادت کے ساتھ نسبت دے کر اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی بندگی کی۔
البتہ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ حدیث میں سالانہ میلاد کی کسی مخصوص مجلس کا حکم نہیں دیا گیا۔ لہٰذا موجودہ زمانے کی مجلس کو بعینہٖ سنتِ نبوی کہنا درست نہیں؛ بلکہ اس کے اندر کیے جانے والے اعمال کو ان کی اپنی شرعی حیثیت کے مطابق دیکھا جائے گا۔
محفلِ میلاد میں کیا چیزیں جائز ہیں؟
اگر کسی مجلس میں:
- قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے،
- رسول اللہ ﷺ کی ولادت اور سیرت بیان کی جائے،
- درود و سلام پڑھا جائے،
- آپ ﷺ کے فضائل بیان کیے جائیں،
- اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے،
- صدقہ و خیرات کیا جائے،
اور ان کے ساتھ کوئی خلافِ شرع عمل نہ ہو تو ان نیک اعمال کو صرف اس وجہ سے ناجائز نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں میلاد کی مجلس میں جمع کیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ»
“جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا اجر بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث 1017)
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص شریعت میں نئی فرض یا واجب عبادت ایجاد کرسکتا ہے، بلکہ اس کا تعلق ایسے نیک کام کو زندہ کرنے یا جاری کرنے سے ہے جس کی اصل شریعت میں موجود ہو۔
کیا 12 ربیع الاول کو میلاد منانا سنتِ ثابتہ ہے؟
یہاں اصلِ میلاد اور تاریخ کی تعیین میں فرق کرنا ضروری ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر اور آپ ﷺ کی نعمتِ رسالت پر خوشی کا اظہار جائز ہے، لیکن 12 ربیع الاول کو سالانہ میلاد منانے کی مخصوص ہیئت نبی کریم ﷺ یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بطورِ سالانہ مذہبی اجتماع ثابت نہیں۔
لہٰذا کسی شخص کو یہ عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے کہ 12 ربیع الاول کو میلاد کی مجلس منعقد کرنا فرض یا واجب ہے۔
دوسری طرف محض اس بنیاد پر کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی موجودہ صورت میں سالانہ محفل منعقد نہیں کی، قرآن، سیرت، درود اور صدقہ جیسے مباح و نیک اعمال پر مشتمل ہر مجلس کو مطلقاً حرام قرار دینا بھی درست نہیں؛ بلکہ مجلس میں شامل ہر عمل کو شریعت کے اصولوں کے مطابق پرکھا جائے گا۔
میلاد میں ناجائز امور کی آمیزش
اگر کسی مجلس میں جھوٹے واقعات، بے پردگی، مرد و زن کا غیر شرعی اختلاط، لہو و لعب، موسیقی یا شریعت کے کسی دوسرے ممنوع امر کا ارتکاب ہو تو وہ کام ناجائز ہوگا۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ میں غلو کرنا بھی درست نہیں۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے ارشادات اور شریعت کی حدود کی پابندی کی جائے۔
حنفی فقہاء کا اصول
فقہائے احناف نے نیکی کے مختلف اعمال کو ایک مجلس میں جمع کرنے کو محض اجتماع کی وجہ سے ممنوع قرار نہیں دیا، بلکہ اصل اعتبار سے اس عمل کی شرعی حیثیت دیکھی ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے رد المحتار میں مباح اور مستحسن اجتماعات کے متعلق اصولی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی عمل کو محض عرفی اجتماع یا تخصیص کی وجہ سے حرام قرار دینے کے لیے شرعی دلیل ضروری ہے۔
(رد المحتار، کتاب الحظر والإباحۃ، مباحث البدعة)
فیصلہ
لہٰذا شرعی اصول کی روشنی میں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے عنوان سے ایسی مجلس جس میں قرآن، ذکر، درود و سلام، سیرتِ نبوی ﷺ کا بیان، صدقہ اور دیگر جائز اعمال ہوں، اور اس میں کوئی خلافِ شرع امر نہ ہو، اسے مطلقاً ناجائز کہنا درست نہیں۔
البتہ اسے فرض، واجب یا سنتِ مؤکدہ کی مقررہ سالانہ ہیئت سمجھنا بھی درست نہیں۔
پس صحیح اور متوازن بات یہ ہے کہ اصلِ ذکرِ ولادت و سیرت اور اظہارِ فرح و شکر جائز ہے، جبکہ طریقۂ انعقاد میں شریعت کی حدود کی پابندی ضروری ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری