← एंट्री पर वापस प्रिंट विंडो में डेस्टिनेशन में “Save as PDF” चुनिए।

मुफ़्ती सैयद मोहम्मद आलम मदारी

हाफ़िज़-ए-क़ुरआन · क़ारी · आलिम · मुफ़्ती · पीएच.डी. (हदीस)

मकनपुर शरीफ़, कानपुर नगर, उत्तर प्रदेश, भारत

फ़तावा

प्रकाशित
29 अगस्त 2026
विषय
نماز توڑنے والی چیزیں
मूल भाषा
اردو

نماز توڑنے والی چیزیں

جان بوجھ کر بات کرنا، خواہ ایک لفظ ہی ہو۔ کسی کو جواب دینے کی نیت سے کلام کرنا۔ کھانا یا پینا۔ قبلہ سے سینہ پھیر دینا۔ نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والے کو غالب گمان ہو کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے۔ بلا عذر زیادہ حرکت کرنا۔ قرآنِ کریم کو اس طرح پڑھنا کہ معنی میں واضح فساد پیدا ہوجائے۔ بالغ شخص کا رکوع و سجدہ والی نماز میں اتنی آواز سے قہقہہ لگانا کہ پاس والا سن سکے؛ اس سے نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔

فتویٰ نمبر: 27 — نماز توڑنے والی چیزیں

استفتاء:

کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

نماز کے دوران درج ذیل امور سے نماز فاسد ہوجاتی ہے:

جان بوجھ کر بات کرنا، خواہ ایک لفظ ہی ہو۔

کسی کو جواب دینے کی نیت سے کلام کرنا۔

کھانا یا پینا۔

قبلہ سے سینہ پھیر دینا۔

نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنا جس سے دیکھنے والے کو غالب گمان ہو کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے۔

بلا عذر زیادہ حرکت کرنا۔

قرآنِ کریم کو اس طرح پڑھنا کہ معنی میں واضح فساد پیدا ہوجائے۔

بالغ شخص کا رکوع و سجدہ والی نماز میں اتنی آواز سے قہقہہ لگانا کہ پاس والا سن سکے؛ اس سے نماز اور وضو دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔

لہٰذا نماز میں حتی الامکان مکمل سکون، خشوع اور توجہ اختیار کرنا چاہیے اور ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو نماز کو فاسد کردے۔

حوالہ:

الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری