Mufti Syed Mohammad Alam Madari
Hafiz-e-Qur'an · Qari · Alim · Mufti · PhD in Hadith
Makanpur Shareef, Kanpur Nagar, Uttar Pradesh, India
Fatawa
- Reference no.
- MAM0052
- Published
- 3 September 2026
- Topic
- حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
- Original language
- اردو
حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق
حضرت ابو طالب کے ایمان کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں ایسے متعدد شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی واضح ہوتی ہے۔
فتویٰ نمبر517
عنوان: حضرت ابو طالب کا ایمان — قلبی تصدیق، اقرارِ حق , دلائل کی روشنی میں
استفتاء
حضرت ابو طالب کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بعض اہلِ علم ان کے ایمان کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو دل سے سچا مانتے، آپ ﷺ کے دین کو حق اور بہترین دین سمجھتے اور آپ ﷺ کی حفاظت و نصرت کرتے رہے، لیکن قوم کی ملامت اور عار کے خوف سے اپنے ایمان کا علانیہ اظہار نہ کرسکے۔ ان کے اشعار، اقوال، نصرت اور دیگر واقعات کی روشنی میں کیا ان کا ایمان ثابت ہوتا ہے؟ نیز آخری وقت کلمہ نہ پڑھنے والی حدیث اور آیتِ اکراہ کے درمیان کیا تطبیق ہوگی؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب وبالله التوفيق
حضرت ابو طالب کے مسئلے میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ قلبی تصدیق، حق کی معرفت اور ظاہری اظہار تینوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ حضرت ابو طالب کے بارے میں سیرت و تاریخ میں متعدد ایسے شواہد منقول ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کی غیر معمولی محبت و نصرت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر بعض اہلِ علم نے حضرت ابو طالب کے ایمان کا قول اختیار کیا ہے۔
حضرت ابو طالب کے اشعار میں دینِ محمد ﷺ کی تصدیق
حضرت ابو طالب کی طرف منسوب مشہور شعر ہے:
وَلَقَدْ عَلِمْتُ بِأَنَّ دِينَ مُحَمَّدٍ
مِنْ خَيْرِ أَدْيَانِ الْبَرِيَّةِ دِينَا
ترجمہ: “مجھے یقیناً معلوم ہے کہ محمد ﷺ کا دین مخلوق کے بہترین ادیان میں سے ہے۔”
اس شعر میں «عَلِمْتُ» کا لفظ نہایت اہم ہے۔ اس کا معنی ہے: “میں جانتا ہوں، مجھے معلوم ہے۔” اور آگے دینِ محمد ﷺ کو «مِنْ خَيْرِ أَدْيَانِ الْبَرِيَّةِ» یعنی مخلوق کے بہترین ادیان میں قرار دیا گیا ہے۔ اگر اس شعر کی نسبت حضرت ابو طالب کی طرف تسلیم کی جائے تو یہ ان کے قلبی اعترافِ حق کا نہایت قوی تاریخی قرینہ ہے۔
اسی طرح منقول ہے:
وَدَعَوْتَنِي وَعَلِمْتُ أَنَّكَ نَاصِحِي
وَلَقَدْ صَدَقْتَ وَكُنْتَ ثَمَّ أَمِينَا
ترجمہ: “آپ نے مجھے دعوت دی اور میں جانتا ہوں کہ آپ میرے خیر خواہ ہیں، آپ نے سچ کہا اور آپ امانت دار ہیں۔”
یہاں رسول اللہ ﷺ کی صداقت و امانت کا اعتراف موجود ہے۔
یہ اشعار سیرت و ادب کی کتابوں میں حضرت ابو طالب کی طرف منسوب ہوکر مشہور ہیں۔ ان کی اسنادی حیثیت صحیح احادیث کے درجے کی نہیں، اس لیے انہیں حدیثِ صحیح کے برابر قطعی دلیل نہیں کہا جائے گا؛ تاہم تاریخی شواہد اور قرائن کے طور پر ان کی اہمیت ضرور ہے۔
قوم کی ملامت اور عار کا خوف
حضرت ابو طالب کی طرف منسوب ایک نہایت اہم شعر ہے:
لَوْلَا الْمَلَامَةُ أَوْ حِذَارِي سُبَّةً
لَوَجَدْتَنِي سَمْحًا بِذَاكَ مُبِينَا
ترجمہ: “اگر ملامت کا خوف اور عار کا اندیشہ نہ ہوتا تو تم مجھے اس معاملے کو کھلے طور پر قبول کرنے والا پاتے۔”
اگر اس شعر کی نسبت حضرت ابو طالب کی طرف تسلیم کی جائے تو یہ ان کے قلبی موقف کے حق میں نہایت اہم قرینہ ہے؛ کیونکہ اس میں رکاوٹ رسول اللہ ﷺ کی صداقت میں شک کو نہیں بلکہ ملامت اور عار کے خوف کو قرار دیا گیا ہے۔
اس سے یہ مفہوم اخذ کیا جاتا ہے کہ ان کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور آپ ﷺ کے دین کی حقانیت کا اعتراف موجود تھا، لیکن قوم کے طعن و تشنیع اور قبائلی دباؤ نے علانیہ اظہار میں رکاوٹ پیدا کی۔
رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اور غیر معمولی نصرت
حضرت ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اور نصرت میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخِ اسلام کا معروف واقعہ ہے۔ قریش کی طرف سے شدید دباؤ کے باوجود انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے حوالے نہیں کیا اور آپ ﷺ کی حمایت میں اپنی قوم کی مخالفت برداشت کی۔
ان کی طرف منسوب مشہور شعر ہے:
وَاللّٰهِ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ
حَتَّى أُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِينَا
ترجمہ: “اللہ کی قسم! یہ لوگ اپنی پوری جماعت کے ساتھ بھی تم تک نہیں پہنچ سکتے، یہاں تک کہ مجھے مٹی میں دفن کردیا جائے۔”
یہ الفاظ اس غیر معمولی عزم کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو حضرت ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے ظاہر کیا۔
محض کسی رشتہ دار کی دنیاوی مدد کو شرعی ایمان کی قطعی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن جب اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا اعتراف، آپ ﷺ کے دین کی تعریف اور آپ ﷺ کی نبوت کی حمایت پر مشتمل اقوال بھی موجود ہوں تو یہ مجموعہ قلبی وابستگی اور معرفتِ حق کا قوی تاریخی قرینہ بن جاتا ہے۔
قرآن سے دل اور زبان کے فرق کا اصول
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ
“مگر وہ شخص جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔”
(النحل: 106)
اس آیت کا سببِ نزول حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے، حضرت ابو طالب کا نہیں۔ تاہم آیت ایک عمومی اصول بیان کرتی ہے کہ حقیقی اکراہ کی صورت میں ظاہری اظہار اور دل کی کیفیت میں فرق ہوسکتا ہے۔
حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو کفار نے سخت اذیت دے کر ان کے منہ سے اپنے مطلوبہ کلمات کہلوائے، لیکن ان کا دل ایمان پر قائم تھا۔ قرآن نے ان کے دل کے اطمینان کو معتبر قرار دیا۔
لہٰذا اصولی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ اگر کسی شخص کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور کسی معتبر جبر و اکراہ کی وجہ سے وہ اپنے ایمان کا اظہار نہ کرسکے تو محض ظاہری عدمِ اظہار سے اس کے قلبی یقین کی نفی نہیں ہوتی۔
البتہ حضرت ابو طالب کے معاملے میں یہ الگ سوال ہے کہ ان پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ جیسا شرعی اکراہ ثابت تھا یا نہیں۔ صرف قبائلی ملامت اور عار کا خوف شرعی اکراہ کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک اس کی شرعی حقیقت ثابت نہ ہو۔
کیا آیتِ اکراہ حضرت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی؟
حضرت ابو طالب کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ آیتِ اکراہ انہی کے واقعے میں نازل ہوئی۔ مفسرین نے اس آیت کا سببِ نزول حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بیان کیا ہے۔ امام طبری وغیرہ نے اسی مضمون کو نقل کیا ہے۔
البتہ آیت سے حاصل ہونے والا اصول محض حضرت عمار رضی اللہ عنہ تک محدود نہیں کہ حقیقی اکراہ کی صورت میں انسان کے ظاہر اور باطن کے احکام میں فرق ہوسکتا ہے۔
لہٰذا ایمانِ ابو طالب کے قائلین اس آیت کو سببِ نزول کے طور پر نہیں بلکہ اصولی نظیر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
قرآن میں قلبی معرفت اور ظاہری انکار کا فرق
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ
“انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا، حالانکہ ان کے دل ان کا یقین کرچکے تھے۔”
(النمل: 14)
اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں کسی حقیقت کا یقین موجود ہوسکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا ظاہری رویہ اس یقین کے موافق نہ ہو۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ
“وہ اسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔”
(البقرۃ: 146)
اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ معرفتِ حق اور ظاہری قبولِ حق میں فرق ہوسکتا ہے۔
اسی اصول کی روشنی میں ایمانِ ابو طالب کے قائلین کہتے ہیں کہ اگر ان کے منقول اشعار سے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور دینِ محمد ﷺ کی حقانیت کی معرفت ثابت مانی جائے تو آخری وقت زبان سے کلمہ نہ پڑھنے کو ان کے سابقہ قلبی اعتراف کی مکمل نفی قرار دینا ضروری نہیں۔
آخری وقت رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ کلمہ
صحیح بخاری میں حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو طالب کے آخری وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَا عَمِّ، قُلْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ
“اے میرے چچا! لا إله إلا الله کہہ دیجیے، یہ ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے میں اللہ کے ہاں آپ کے لیے حجت پیش کرسکوں گا۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 3884؛ صحیح مسلم)
ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے انہیں عبدالمطلب کے طریقے پر قائم رہنے کی ترغیب دی، اور روایت میں ان کے آخری الفاظ نقل ہوئے:
هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
یہی روایت جمہور اہلِ علم کی بنیادی دلیل ہے۔
ایمانِ ابو طالب کے قائلین کی اس حدیث کے بارے میں تطبیق
ایمانِ ابو طالب کے قائلین کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ آخری وقت ظاہری اقرارِ کلمہ نہیں ہوا، لیکن حضرت ابو طالب کے سابقہ اشعار اور اقوال سے جو قلبی اعتراف اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا یقین ظاہر ہوتا ہے، اس کو محض آخری وقت کے عدمِ اظہار کی وجہ سے بالکل ختم قرار دینا ضروری نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے آخری وقت کلمہ پڑھنے کی دعوت اس لیے دی کہ اسلام کا شرعی اظہار مطلوب تھا اور آپ ﷺ چاہتے تھے کہ حضرت ابو طالب زبان سے بھی اس حقیقت کا اقرار فرما دیں تاکہ آپ ﷺ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حجت پیش کرسکیں۔
پس یہ کہنا درست نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے کلمہ کی دعوت دینے کا لازماً یہ معنی ہے کہ حضرت ابو طالب نے زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی صداقت کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔ آخری وقت کی دعوت اپنی جگہ ہے اور سابقہ قلبی اعتراف کے شواہد اپنی جگہ۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو طالب کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَنْصُرُكَ، فَهَلْ نَفَعْتَهُ بِشَيْءٍ؟
“یا رسول اللہ! حضرت ابو طالب آپ کی حفاظت کرتے اور آپ کی مدد کرتے تھے، تو کیا اس کا انہیں کچھ فائدہ پہنچا؟”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ
ترجمہ: “ہاں، وہ آگ کی ہلکی تہہ میں ہوں گے، اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 209)
اس روایت میں خود حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو طالب کی حفاظت و نصرت کو بطور خاص ذکر فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی اس خدمت کا ذکر فرمایا۔ اس سے حضرت ابو طالب کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غیر معمولی وفاداری اور نصرت کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ایمانِ ابو طالب کے قائلین اس روایت کو ان کے سابقہ اعترافات اور اشعار کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں، جبکہ جمہور اہلِ علم اس روایت کو اپنے موقف کی دلیل بناتے ہیں۔ اس لیے اس مقام پر اختلاف کو علمی انداز میں بیان کرنا چاہیے اور حضرت ابو طالب کے بارے میں بے ادبی سے بچنا چاہیے۔
حضرت ابو طالب اور شام کا سفر
نبی کریم ﷺ کے بچپن میں حضرت ابو طالب کے ساتھ شام کے سفر اور راہب کے واقعے کا ذکر سیرت میں مشہور ہے۔ معروف روایت کے مطابق یہ واقعہ آپ ﷺ کی عمر تقریباً بارہ سال کے زمانے کا ہے، چھ سال کی عمر کا نہیں۔
تاہم اس واقعے سے حضرت ابو طالب کے ایمان کا قطعی شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اس واقعے کی روایات کی اسنادی حیثیت محلِ بحث ہے۔ اس لیے اسے بنیادی دلیل کے بجائے تاریخی واقعہ کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے۔
مجموعۂ دلائل
حضرت ابو طالب کے ایمان کے قائلین کے دلائل کو جمع کیا جائے تو ان کے پاس یہ اہم قرائن موجود ہیں:
1. رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا اعتراف۔
2. آپ ﷺ کے دین کو بہترین دین قرار دینا۔
3. آپ ﷺ کو صادق و امین تسلیم کرنا۔
4. آپ ﷺ کی غیر معمولی نصرت اور حفاظت کرنا۔
5. اپنی قوم کی مخالفت برداشت کرنا۔
6. منقول اشعار میں ملامت اور عار کو علانیہ اظہار سے مانع قرار دینا۔
7. قرآن کا یہ اصول کہ حقیقی اکراہ میں دل کا ایمان باقی رہ سکتا ہے۔
8. قرآن کا یہ بیان کہ کسی شخص کے دل میں حق کی معرفت موجود ہوسکتی ہے جبکہ ظاہر اس کے موافق نہ ہو۔
آخری اور جامع تطبیق
اس پورے مسئلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قلبی معرفت، قلبی تصدیق اور ظاہری شرعی اقرار کو ایک ہی چیز نہ سمجھا جائے۔
اگر حضرت ابو طالب کی طرف منسوب مذکورہ اشعار کو معتبر تاریخی شہادت تسلیم کیا جائے تو ان میں رسول اللہ ﷺ کی صداقت، آپ ﷺ کے دین کی حقانیت اور آپ ﷺ کی امانت کا واضح اعتراف موجود ہے۔ خصوصاً:
وَلَقَدْ عَلِمْتُ بِأَنَّ دِينَ مُحَمَّدٍ
مِنْ خَيْرِ أَدْيَانِ الْبَرِيَّةِ دِينَا
اور:
لَوْلَا الْمَلَامَةُ أَوْ حِذَارِي سُبَّةً
لَوَجَدْتَنِي سَمْحًا بِذَاكَ مُبِينَا
ان کے قلبی موقف کے حق میں نہایت اہم قرائن ہیں۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی طویل مدت تک حفاظت، نصرت اور قریش کے مقابل آپ ﷺ کی حمایت بھی ان کی غیر معمولی وابستگی اور محبت کو ظاہر کرتی ہے۔
لہٰذا ایمانِ ابو طالب کے قائلین کے نزدیک حضرت ابو طالب کے قلبی ایمان، رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے یقین اور دینِ محمد ﷺ کی حقانیت کے اعتراف کے متعدد قوی تاریخی شواہد موجود ہیں۔ آخری وقت زبان سے کلمہ نہ پڑھنے کی روایت کو وہ قلبی معرفت کی نفی کے بجائے ظاہری اقرار کے عدمِ وقوع کے طور پر دیکھتے ہیں اور آیتِ اکراہ کے عمومی اصول اور قرآن میں معرفتِ باطن و اظہارِ ظاہر کے فرق سے اس کی تطبیق کرتے ہیں۔
یہ قول جمہور کے موقف سے مختلف ہے، اس لیے اسے ایمانِ ابو طالب کے قائلین کا مدلل موقف کہا جائے گا۔ ہر حال میں حضرت ابو طالب کی نسبت سے گفتگو کرتے ہوئے ادب، احترام اور علمی دیانت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری