Mufti Syed Mohammad Alam Madari
Hafiz-e-Qur'an · Qari · Alim · Mufti · PhD in Hadith
Makanpur Shareef, Kanpur Nagar, Uttar Pradesh, India
Fatawa
- Reference no.
- MAM0046
- Published
- 2 September 2026
- Topic
- عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا
- Original language
- اردو
عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا
عورت کے مسجد میں جانے کے مسئلے میں احادیثِ مبارکہ میں اصلِ اجازت موجود ہے، لیکن احناف نے ان احادیث کے ساتھ فتنہ، زمانے کے حالات اور عورت کے لیے گھر میں نماز کی فضیلت کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی حکم بیان فرمایا ہے۔
فتویٰ نمبر 495
عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا
استفتاء:
کیا عورت کے لیے مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہو تو جوان عورت کے مسجد جانے کے بارے میں حنفی فقہ کا کیا حکم ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
عورت کے مسجد میں جانے کے مسئلے میں احادیثِ مبارکہ میں اصلِ اجازت موجود ہے، لیکن احناف نے ان احادیث کے ساتھ فتنہ، زمانے کے حالات اور عورت کے لیے گھر میں نماز کی فضیلت کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی حکم بیان فرمایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ
“اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔”»
(صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا مسجد میں نماز ادا کرنا اپنی اصل کے اعتبار سے ممنوع نہیں۔
لیکن دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے عورت کے لیے گھر میں نماز کو زیادہ افضل قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا»
“عورت کی اپنے گھر میں نماز اس کے حجرے کی نماز سے افضل ہے، اور اس کے مخصوص اندرونی حصے میں نماز اس کے گھر کی نماز سے افضل ہے۔”
(سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ)
اسی وجہ سے حنفی فقہاء نے عورت کے مسجد جانے میں عمر اور حالات کے اعتبار سے تفصیل بیان فرمائی ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے کہ جوان عورتوں کے مسجد جانے میں فتنے کا اندیشہ ہونے کی وجہ سے انہیں مسجد جانے سے روکنے کا حکم دیا جائے گا، جبکہ بوڑھی عورتوں کے لیے گنجائش زیادہ ہے۔ اسی طرح الفتاویٰ الہندیہ اور رد المحتار میں بھی عورتوں کے مسجد جانے کے متعلق عمر اور حالات کے اعتبار سے تفصیل بیان کی گئی ہے۔
احناف کے نزدیک جوان عورت کے مسجد جانے کے بارے میں اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ مسجد میں نماز جائز ہے یا نہیں، بلکہ زمانے کے حالات اور فتنہ کے اندیشے کو بھی دیکھا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو مسجد آنے کی اجازت کے ساتھ ان کے آداب بھی بیان فرمائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ»
“جو عورت خوشبو لگا لے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو۔”
(صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے مسجد جانے کے لیے شرعی آداب کی پابندی ضروری ہے۔
حنفی حکم:
جوان عورت کا مسجد میں نماز کے لیے جانا مکروہ ہے، خصوصاً جب فتنے یا بے پردگی کا اندیشہ ہو۔ بوڑھی عورت کے لیے مسجد جانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ شرعی آداب کی پابندی ہو اور کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
تاہم عورت کے لیے گھر میں نماز پڑھنا بہرحال زیادہ افضل ہے۔
لہٰذا حدیثِ “لا تمنعوا إماء الله مساجد الله” کو دیکھ کر یہ کہنا درست نہیں کہ ہر زمانے اور ہر حالت میں جوان عورت کا مسجد جانا حنفی فقہ میں بلاکراہت ہے۔ اسی طرح عورت کو مسجد میں نماز پڑھنے سے مطلقاً ناجائز کہنا بھی درست نہیں؛ بلکہ احناف نے نصوص کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے عمر، زمانے اور فتنہ کے اعتبار سے تفصیل بیان فرمائی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری