← عودة إلى المادة في نافذة الطباعة اختر «Save as PDF» وجهةً.

المفتي السيد محمد عالم مداري

حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث

مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند

الفتاوى

رقم المرجع
MAM02
تاريخ النشر
29 أغسطس 2026
الموضوع
Iman aur islam
اللغة الأصلية
اردو

ایمان اور اسلام

ایمان کے بنیادی ارکان یہ ہیں: اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن اور تقدیر کے اچھے برے ہونے پر ایمان لانا۔

فتویٰ نمبر: 1 — ایمان اور اسلام

استفتاء:

اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

اسلام سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام کو ظاہراً قبول کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنا ہے، جبکہ ایمان سے مراد دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بیان کردہ تمام ضروریاتِ دین کی تصدیق کرنا ہے۔

ایمان کے بنیادی ارکان یہ ہیں: اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، قیامت کے دن اور تقدیر کے اچھے برے ہونے پر ایمان لانا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ

(البقرۃ: 177)

اور حدیثِ جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان اور اسلام دونوں کی وضاحت فرمائی ہے۔

لہٰذا اسلام ظاہری اعمال و اطاعت کا نام ہے اور ایمان باطنی تصدیق کا، اگرچہ شریعت میں دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

حوالہ:

القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، آیت 177؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان؛ شرح العقائد النسفیہ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری