المفتي السيد محمد عالم مداري
حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث
مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند
الفتاوى
- رقم المرجع
- MAM012
- تاريخ النشر
- 29 أغسطس 2026
- اللغة الأصلية
- اردو
اولیائے کرام رحمہم اللہ
اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندوں سے محبت کرنا اور ان کا ادب و احترام کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے
فتویٰ نمبر: 11 — اولیائے کرام رحمہم اللہ
استفتاء:
کیا اولیائے کرام سے محبت اور ان کا ادب کرنا شرعاً جائز ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
جی ہاں، اللہ تعالیٰ کے نیک اور صالح بندوں سے محبت کرنا اور ان کا ادب و احترام کرنا شرعاً جائز بلکہ باعثِ خیر و برکت ہے۔ ولی وہ مسلمان ہے جو ایمان اور تقویٰ کی صفت رکھتا ہو۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ
ترجمہ: ’’سن لو! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔‘‘
(سورۃ یونس: 62-63)
لہٰذا اولیائے کرام سے محبت رکھنا درست ہے، لیکن عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جائے اور کسی ولی کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شریک نہ سمجھا جائے۔
حوالہ:
القرآن الکریم، سورۃ یونس: 62-63؛ صحیح البخاری، کتاب الرقاق؛ شرح العقائد النسفیہ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب