المفتي السيد محمد عالم مداري
حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث
مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند
الفتاوى
- رقم المرجع
- MAM023
- تاريخ النشر
- 29 أغسطس 2026
- الموضوع
- نماز کے مکروہات
- اللغة الأصلية
- اردو
نماز کے مکروہات
بلا ضرورت کپڑوں یا بدن سے کھیلنا۔ بار بار اِدھر اُدھر دیکھنا۔ آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔ انگلیوں کا چٹخانا۔ کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔ بلا ضرورت جمائی لینا اور اسے نہ روکنا۔ نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنا۔ ایسی حالت میں نماز پڑھنا کہ پیشاب یا پاخانے کی شدید حاجت ہو۔ سجدے میں بازو زمین پر بچھا دینا۔ بلا ضرورت کسی شخص کے سامنے سے گزرنا یا نمازی کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی توجہ منتشر ہو۔
فتویٰ نمبر: 26 — نماز کے مکروہات
استفتاء:
نماز میں کون سے کام مکروہ ہیں؟
الجواب وبالله التوفيق:
نماز میں ایسے کام جن سے نماز کے خشوع و خضوع یا نماز کی ہیئتِ مسنونہ متاثر ہو، ان سے بچنا چاہیے۔ چند اہم مکروہات یہ ہیں:
بلا ضرورت کپڑوں یا بدن سے کھیلنا۔
بار بار اِدھر اُدھر دیکھنا۔
آسمان کی طرف نظر اٹھانا۔
انگلیوں کا چٹخانا۔
کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔
بلا ضرورت جمائی لینا اور اسے نہ روکنا۔
نماز میں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنا۔
ایسی حالت میں نماز پڑھنا کہ پیشاب یا پاخانے کی شدید حاجت ہو۔
سجدے میں بازو زمین پر بچھا دینا۔
بلا ضرورت کسی شخص کے سامنے سے گزرنا یا نمازی کو ایسی جگہ کھڑا کرنا جہاں اس کی توجہ منتشر ہو۔
نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا چاہیے اور ہر ایسے عمل سے بچنا چاہیے جو نماز کے ادب کے خلاف ہو۔
حوالہ:
الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری