المفتي السيد محمد عالم مداري
حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث
مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند
الفتاوى
- رقم المرجع
- MAM0048
- تاريخ النشر
- 2 سبتمبر 2026
- الموضوع
- نماز میں ہاتھ اٹھانے کا حکم — رفع الیدین
- اللغة الأصلية
- اردو
نماز میں ہاتھ اٹھانے کا حکم — رفع الیدین
رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین کا مسئلہ ائمۂ مجتہدین کے درمیان قدیم اختلافی مسئلہ ہے۔ اس اختلاف کو سمجھتے ہوئے کسی فریق کی نماز کو باطل یا غیر صحیح قرار دینا درست نہیں، کیونکہ دونوں جانب احادیث اور آثار سے استدلال کیا گیا ہے۔
فتویٰ نمبر 496
نماز میں ہاتھ اٹھانے کا حکم — رفع الیدین
استفتاء:
رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کے بارے میں احادیث مختلف معلوم ہوتی ہیں۔ بعض روایات میں رفع الیدین کا ذکر ہے اور بعض میں ترک کا۔ حنفی علماء کے نزدیک راجح عمل کیا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق:
رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین کا مسئلہ ائمۂ مجتہدین کے درمیان قدیم اختلافی مسئلہ ہے۔ اس اختلاف کو سمجھتے ہوئے کسی فریق کی نماز کو باطل یا غیر صحیح قرار دینا درست نہیں، کیونکہ دونوں جانب احادیث اور آثار سے استدلال کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
«أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ»
“نبی کریم ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کے ارادے کے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔”
(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ)
یہ رفع الیدین کے اثبات میں نہایت مضبوط حدیث ہے۔
دوسری طرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی نماز بیان کرتے ہوئے پہلی تکبیر کے علاوہ ہاتھ نہ اٹھائے۔ یہ روایت سنن ابی داود، جامع الترمذی اور سنن نسائی میں منقول ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا، اگرچہ اس روایت کی صحت پر محدثین کے درمیان کلام بھی موجود ہے۔
احناف نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور دیگر آثار، نیز بعض روایات سے استدلال کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے جائیں، اس کے بعد رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین نہ کیا جائے۔
امام محمد رحمہ اللہ نے موطأ امام محمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے منقول آثار ذکر کیے ہیں، اور حنفی فقہاء نے ترکِ رفع الیدین کو اختیار کیا ہے۔ الہدایہ میں بھی نماز کی صفت بیان کرتے ہوئے رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین نہ کرنے کا حکم مذکور ہے۔
یہاں ایک اہم اصولی بات سمجھنا ضروری ہے: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث کی وجہ سے رفع الیدین کرنے والے ائمہ کا عمل بھی حدیث پر مبنی ہے، جبکہ احناف نے دوسری روایات، آثارِ صحابہ اور ناسخ و منسوخ یا عملِ متوارث کے مباحث کی بنیاد پر ترکِ رفع الیدین کو ترجیح دی ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ سنت کے انکار کا مسئلہ نہیں بلکہ احادیث کے باہمی تعارضِ ظاہری اور ترجیح کا فقہی مسئلہ ہے۔
حنفی مذہب میں راجح عمل یہ ہے کہ نماز کے شروع میں تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ ہاتھ اٹھائے جائیں، پھر رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے جائیں۔ اس کے باوجود جو شخص رفع الیدین کرے، اس کی نماز صحیح ہے؛ کیونکہ یہ مسئلہ ائمۂ مجتہدین کے درمیان معتبر اختلافی مسئلہ ہے۔
لہٰذا اس مسئلے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کی نمازوں کو باطل کہنا، ایک دوسرے پر طعن کرنا یا سنت کا منکر قرار دینا مناسب نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی سید محمد عالم مداری