← عودة إلى المادة في نافذة الطباعة اختر «Save as PDF» وجهةً.

المفتي السيد محمد عالم مداري

حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث

مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند

الفتاوى

رقم المرجع
MAM0035
تاريخ النشر
2 سبتمبر 2026
الموضوع
امام کے پیچھے آمین اور مقتدی کی قراءت
اللغة الأصلية
اردو

امام کے پیچھے آمین اور مقتدی کی قراءت

مقتدی کے لیے امام کی اقتدا کرنا لازم ہے۔ جب امام جہری نماز میں قراءت کرے تو مقتدی خاموشی سے امام کی قراءت سنے گا اور خود قراءت نہیں کرے گا۔ سورۂ فاتحہ مکمل ہونے پر آمین آہستہ کہے گا۔

فتویٰ نمبر: 486

موضوع: امام کے پیچھے آمین اور مقتدی کی قراءت — کیا دونوں جمع ہوسکتے ہیں؟

استفتاء

اگر امام سورۂ فاتحہ کے بعد آمین کہے تو کیا مقتدی بھی آمین کہے؟ اور کیا امام کی قراءت کے دوران مقتدی کو خاموش رہنا چاہیے یا سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے؟

الجواب وبالله توفيق

مقتدی کے لیے امام کی اقتدا کرنا لازم ہے۔ جب امام جہری نماز میں قراءت کرے تو مقتدی خاموشی سے امام کی قراءت سنے گا اور خود قراءت نہیں کرے گا۔ سورۂ فاتحہ مکمل ہونے پر آمین آہستہ کہے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا

“اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔”

(الأعراف: 204)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا

“اور جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو۔”

(صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا

“جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔”

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

لہٰذا امام کی قراءت کے وقت مقتدی خاموش رہے اور امام کے آمین کہنے پر آمین کہے۔

سورۂ فاتحہ پڑھنے کی حدیث کا کیا حکم ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

“جس نے فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی اس کی نماز نہیں۔”

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب الصلاة)

احناف اس حدیث کو امام اور منفرد کے لیے محمول کرتے ہیں، جبکہ مقتدی کے بارے میں امام کی قراءت سننے اور خاموش رہنے والی احادیث کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ یوں دونوں طرح کی احادیث کو جمع کیا جاتا ہے۔

حنفی موقف

لہٰذا حنفی طریقے کے مطابق:

امام: سورۂ فاتحہ پڑھے اور آمین آہستہ کہے۔

مقتدی: امام کی قراءت خاموشی سے سنے، خود فاتحہ نہ پڑھے، اور آمین آہستہ کہے۔

یہ ایک قدیم اجتہادی مسئلہ ہے، اس لیے اس بنیاد پر دوسرے معتبر قول پر عمل کرنے والے مسلمان کی نماز کو باطل یا اسے فاسق کہنا درست نہیں۔

مراجع

القرآن الکریم، سورۃ الأعراف: 204

صحیح البخاری، کتاب الأذان

صحیح مسلم، کتاب الصلاة

الہدایہ، کتاب الصلاة

بدائع الصنائع، کتاب الصلاة

المبسوط للسرخسی، کتاب الصلاة

رد المحتار، کتاب الصلاة

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری