← عودة إلى المادة في نافذة الطباعة اختر «Save as PDF» وجهةً.

المفتي السيد محمد عالم مداري

حافظ للقرآن · قارئ · عالم · مفتٍ · دكتوراه في الحديث

مكن بور شريف، كانبور نغر، أوتار براديش، الهند

الفتاوى

رقم المرجع
MAM0031
تاريخ النشر
2 سبتمبر 2026
الموضوع
جماعت کی نماز
اللغة الأصلية
اردو

جماعت کی نماز

بالغ، عاقل اور قدرت رکھنے والے مرد کے لیے پانچوں فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے،

فتویٰ نمبر: 31 — جماعت کی نماز

استفتاء:

کیا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ضروری ہے؟

الجواب وبالله التوفيق:

بالغ، عاقل اور قدرت رکھنے والے مرد کے لیے پانچوں فرض نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اور بلا عذر جماعت چھوڑنے کی عادت درست نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے جماعت کی نماز کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو جماعت سے پیچھے رہتے تھے، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی۔

(صحیح مسلم، کتاب المساجد)

لہٰذا مردوں کو چاہیے کہ مسجد میں باجماعت نماز کی پابندی کریں۔ البتہ شرعی عذر کی صورت میں جماعت چھوڑنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ:

صحیح مسلم، کتاب المساجد؛ الہدایہ، کتاب الصلاۃ؛ بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ؛ رد المحتار، کتاب الصلاۃ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی سید محمد عالم مداری